ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی -ٹی ایم سی ممبران پارلیمنٹ کی نوک جھوک پر لوک سبھا اسپیکر نے کہا،ایوان کو بنگال اسمبلی مت بنائیں

بی جے پی -ٹی ایم سی ممبران پارلیمنٹ کی نوک جھوک پر لوک سبھا اسپیکر نے کہا،ایوان کو بنگال اسمبلی مت بنائیں

Wed, 03 Jul 2019 23:53:43    S.O. News Service

نئی دہلی،03/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) مغربی بنگال کی حکومت پر ’کٹ منی‘ لیے جانے کے الزامات پر بدھ کو لوک سبھا میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے ارکان کے درمیان شدید رشہ کشی دیکھنے کو ملی اور انہیں خاموش کرواتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو یہاں تک کہنا پڑا کہ ایوان کو بنگال اسمبلی مت بنائیں۔ بی جے پی کی لاکٹ چٹرجی نے منگل کو ایوان میں وقفہ صفر کے دوران الزام لگایا تھا کہ مغربی بنگال میں پیدائش سے لے کر موت تک ہر جگہ کٹ منی لی جاتی ہے۔انہوں نے ترنمول کانگریس کے کارکنوں اور ریاستی حکومت پر اس طرح کا الزام لگایا تھا جسے لے کر دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان نوک جھوک ہوئی تھی۔اس مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے نے بدھ کو ایوان میں کہا کہ بی جے پی رکن نے مغربی بنگال کی وزیر اعلی پر الزام لگائے جو اس ایوان میں موجود نہیں ہیں۔لہٰذا اس سلسلے میں کہی گئی باتوں کو ایوان کے ریکارڈ سے نکالا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں قانون ونظام کے سوال کو ایوان میں نہیں اٹھایا جا سکتا۔اس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ وہ ساری کارروائی کو دیکھنے کے بعد اس سلسلے میں رائے دیں گے۔ بندوپادھیائے کے بیٹھنے کے بعد ترنمول کانگریس کے کچھ ارکان اور مغربی بنگال سے بی جے پی کے کچھ ارکان کے درمیان دیر تک نوک جھوک دیکھنے کو ملی۔صدر برلا کے کہنے کے باوجود رکن دیر تک ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہے۔ بعد میں اسپیکر نے یہ بھی کہاکہ ایوان کو بنگال اسمبلی مت بنائیں۔
 


Share: